غزل

شاعر: احمد فراز

تعارف و مرکزی خیال

احمد فراز کی یہ غزل جدائی کا درد، محبوب کی بے وفائی کے باوجود عاشق کے عزم اور وفا کو بیان کرتی ہے۔ اس میں خود احتسابی اور انقلابی جوش کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

شعر نمبر 1 (مطلع)

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ، ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

مشکل الفاظ کے معنی

سلسلےتعلقات، رابطے
مراسمرسم و راہ، تعلق، آنا جانا

تشریح

احمد فراز محبوب کے چھوڑ کر جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب جاتے ہوئے تمام تعلقات اور رابطے ہمیشہ کے لیے ختم کر گیا۔ ورنہ ہمارے درمیان اتنی محبت اور تعلق (مراسم) تو تھا کہ اگر وہ جدائی اختیار بھی کرتا تو کم از کم رسم و راہ باقی رہتی اور کبھی کبھار آنا جانا لگا رہتا۔ لیکن اس نے تو مکمل بائیکاٹ کر دیا۔

شعر نمبر 2

، شکوه ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

مشکل الفاظ کے معنی

شکوه ظلمت شبرات کے اندھیرے کی شکایت کرنا
شمعچراغ

تشریح

یہ ایک بہت مشہور اور اصلاحی شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ معاشرے کی برائیوں یا حالات کے اندھیروں پر صرف تنقید اور شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس سے بہتر یہ تھا کہ تم صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھاتے اور اپنے حصے کا چھوٹا سا دیا جلا دیتے۔ اگر ہر شخص اپنا حصہ ڈالے تو اندھیرا ختم ہو سکتا ہے۔

شعر نمبر 3

کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

مشکل الفاظ کے معنی

ہجرجدائی
جاناںاے محبوب
جان سے جاتے جاتےمرتے مرتے

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب! تیری جدائی کے صدمے میں مر جانا بہت آسان لگ رہا تھا کہ میں فوراً مر جاؤں گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ موت اتنی آسانی سے نہیں آئی۔ میں ہر روز گھٹ گھٹ کر جی رہا ہوں۔ تیری یاد میں مرنے کے عمل میں پوری زندگی گزر گئی لیکن ابھی تک جان نہیں نکلی۔ یہ سسک سسک کر جینا، ایک بار مر جانے سے زیادہ مشکل ہے۔

شعر نمبر 4

،جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

مشکل الفاظ کے معنی

جشن مقتلقتل گاہ کا میلہ (مراد: قربانی کا موقع)
پابجولاںپاؤں میں بیڑیاں پہنے ہوئے

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ عشق میں جان دینے کا کوئی بڑا موقع (جشن مقتل) آیا ہی نہیں، ورنہ ہم بھی عاشقوں کی طرح پاؤں میں بیڑیاں پہن کر خوشی خوشی ناچتے گاتے اپنی جان قربان کرنے جاتے۔ ہمارے جذبہ قربانی میں کوئی کمی نہیں تھی، بس ہمیں موقع نہیں ملا کہ ہم اپنی وفاداری ثابت کر سکتے۔

شعر نمبر 5

اس کی وہ جانے، اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

مشکل الفاظ کے معنی

پاس وفاوفا کا لحاظ
نبھاتے جاتےوفا پوری کرتے

تشریح

شاعر اپنے آپ (فراز) کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب نے بے وفائی کی تو یہ اس کا معاملہ ہے، وہ جانے کہ اسے وفا کا لحاظ تھا یا نہیں۔ لیکن اے فراز! تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنی طرف سے محبت اور وفا آخری دم تک نبھائے۔ تمہیں رد عمل میں بے وفائی نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ عاشق کا کام صرف محبت کرنا ہے۔