غزل
شاعر: فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری کی یہ غزل عشق میں نفسیاتی کشمکش، صبر و بے صبری کی کیفیت اور محبوب کی بے رخی کے باوجود مکمل تعلق نہ ٹوٹنے کے احساس کو بیان کرتی ہے۔
سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر ایک عجیب کشمکش میں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بظاہر اب میرے سر میں عشق کا جنون نہیں رہا اور دل میں محبوب کو پانے کی خواہش بھی ختم ہو گئی ہے۔ میں نے محبت چھوڑ دی ہے۔ لیکن مجھے اپنے اس فیصلے (ترک محبت) پر بھروسا نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ محبوب کو دیکھتے ہی میرا جنون پھر سے جاگ اٹھے۔ محبت پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔
، ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں اور ہم بھول گئے ہوں تجھے، ایسا بھی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
یہ فراق کا شاہکار شعر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک لمبا عرصہ گزر گیا کہ مجھے شعوری طور پر محبوب کی یاد نہیں آئی (یعنی میں رویا نہیں، تڑپا نہیں)۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں اسے بھول گیا ہوں۔ وہ میرے لاشعور میں، میری رگوں میں موجود ہے، بس شدت میں کمی آ گئی ہے۔ یاد نہ آنے کا مطلب بھول جانا نہیں ہے۔
آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا آج بی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
آج محبوب کی آنکھوں میں بے رخی اور لاپرواہی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آج ہی میرا دل (جو عشق میں بیمار ہے) بھی بے چین اور بے صبر ہو رہا ہے۔ جب دل کو دلاسے کی ضرورت تھی، تب ہی محبوب نے سب سے زیادہ بے رخی دکھائی۔
بات یہ ہے کہ سکون دل وحشی کا مقام کنج زنداں بھی نہیں، وسعتِ صحرا بھی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ میرے دیوانے دل کو کہیں بھی سکون نہیں ملتا۔ نہ تو قید خانے کی تنہائی اسے سکون دیتی ہے اور نہ ہی صحرا کی کھلی فضائیں۔ میرا دل ہر جگہ بے چین رہتا ہے۔ دراصل سکون جگہ میں نہیں، محبوب کے قرب میں ہے۔
یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانہ عشق ، مگر اے دوست نگہبانوں کا ڈر بھی نہیں
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر محبوب کو خبردار کر رہا ہے کہ ویسے تو ہم عشق کے دیوانے خاموش رہتے ہیں اور شور شرابہ نہیں کرتے ہیں۔ لیکن اے دوست! یہ مت سمجھنا کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ ہمیں پہرے داروں (سماج کی رکاوٹوں) کا کوئی خوف نہیں ہے۔ اگر ہم چاہیں تو سب کچھ تہہ و بالا کر سکتے ہیں، یہ ہماری شرافت ہے کہ ہم خاموش ہیں۔