غزل

شاعر: میر تقی میر

تعارف و مرکزی خیال

میر تقی میر کی یہ غزل عشق کی سادگی، محبوب کی بے رخی اور متکبرانہ رویے کی شکایت بیان کرتی ہے۔ میر کے مخصوص انداز میں عشق میں جان گنوانے کو بھی عاشق اپنا فائدہ سمجھتا ہے۔

شعر نمبر 1 (مطلع)

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

مشکل الفاظ کے معنی

پتا پتا بوٹا بوٹاباغ کا ہر حصہ (مراد: ہر کوئی)
گلپھول (مراد: محبوب)
باغدنیا

تشریح

میر تقی میر کہتے ہیں کہ میرے عشق اور میری بربادی کا چرچا ہر جگہ ہے۔ باغ کا ہر پتا اور ہر پودا میرے حال سے واقف ہے یعنی دنیا کا بچہ بچہ میرے دکھ کو جانتا ہے۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ جس "پھول" (محبوب) کے لیے میں برباد ہوا، بس وہی میرے حال سے انجان بنا ہوا ہے۔ محبوب کی یہ بے رخی عاشق کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔

شعر نمبر 2

، آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے

مشکل الفاظ کے معنی

متکبرغرور کرنے والا
خدا خدا کرنامنتیں کرنا، فریاد کرنا
خود آراخود کو سنوارنے والا، خود پسند

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنے مغرور محبوب کے سامنے خدا کا واسطہ دیتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں، لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ شخص جو اپنی ہی خوبصورتی اور ذات میں گم (خود آرا) ہو، اسے خدا کی موجودگی کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اس کا غرور اسے سچائی دیکھنے نہیں دیتا۔

شعر نمبر 3

، عاشق سا تو ساده کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے

مشکل الفاظ کے معنی

سادهبھولا بھالا، بیوقوف
جی کا زیاںجان کا نقصان
وارافائدہ، بچت

تشریح

عاشق بہت بھولا اور سادہ لوح ہوتا ہے۔ وہ عشق میں اپنی جان بھی گنوا دیتا ہے اور اسے اپنا نقصان نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنا فائدہ (وارا) سمجھتا ہے۔ محبوب پر جان قربان کر دینا عاشق کے نزدیک گھاٹے کا سودا نہیں بلکہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔

شعر نمبر 4

چاره گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے

مشکل الفاظ کے معنی

چارہ گریعلاج کرنا
رسمرواج
دلبر ناداںانجان محبوب
چارہعلاج

تشریح

شاعر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے محبوب کے شہر حسن کی دنیا میں بیمار عشق کا علاج کرنے کا رواج ہی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میرا محبوب علاج نہیں جانتا، وہ "نادان" بنتا ہے لیکن در حقیقت وہ سب جانتا ہے کہ اس کی ایک نظر کرم سے میں ٹھیک ہو سکتا ہوں۔ وہ جان بوجھ کر علاج نہیں کرتا کیونکہ وہاں ظلم کا رواج ہے۔

شعر نمبر 5 (مقطع)

مهر و وفا و لطف و عنایت، ایک سے واقف ان میں نہیں اور تو سب کچھ طنز و کنایه رمز و اشارہ جانے ہے

مشکل الفاظ کے معنی

مہرمحبت
لطف و عنایتمہربانی
طنز و کنایهچبھتی ہوئی باتیں
رمز اشارهبھید

تشریح

آخری شعر میں میر اپنے محبوب کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا محبوب محبت، وفا اور مہربانی جیسی اچھی باتوں سے تو بالکل واقف نہیں ہے۔ ہاں اگر اسے کچھ آتا ہے تو وہ طعنے دینا، طنز کرنا، اور اشاروں کنایوں میں دل جلانا ہے۔ وہ پیار کی زبان نہیں سمجھتا لیکن ستانے کے سارے ہنر جانتا ہے۔