غزل

شاعر: منیر نیازی

تعارف و مرکزی خیال

منیر نیازی کی شاعری میں اداسی، خوف اور اندرونی بے چینی کا عنصر نمایاں ہے۔ اس غزل میں شاعر اپنی نفسیاتی کیفیت، محبوب کی یادوں اور ہر جگہ سے بیزاری کے احساس کو بیان کرتا ہے۔

شعر نمبر 1 (مطلع)

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا ، اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

مشکل الفاظ کے معنی

دہکائے ہوئے رہناجلائے رکھنا، روشن رکھنا

تشریح

شاعر اپنی نفسیاتی کیفیت بیان کرتا ہے کہ میں ہر وقت بے چین اور گھبرایا ہوا رہتا ہوں۔ میرے اندر جذبوں کی ایک آگ لگی ہوئی ہے جسے میں بجھنے نہیں دیتا بلکہ اسے مسلسل دہکائے رکھتا ہوں۔ یہ آگ کسی نامعلوم خوف یا شدید خواہش کی ہو سکتی ہے۔

شعر نمبر 2

، چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

مشکل الفاظ کے معنی

لب لعلیںسرخ ہونٹ
چھلکائے ہوئےبکھیرتے ہوئے

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کی یادوں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں جہاں بھی جاتا ہوں، محبوب کے سرخ ہونٹوں کی خوشبو اور یادیں میرے ساتھ ہوتی ہیں۔ میں اپنی یادوں اور خیالوں سے اپنے اردگرد کا ماحول ایک باغ کی طرح مہکائے رکھتا ہوں۔ میں تنہا نہیں ہوں، اس کی خوشبو میرے ساتھ ہے۔

شعر نمبر 3

اس حسن کا شیوہ ہے، جب عشق نظر آئے ، پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

مشکل الفاظ کے معنی

شیوهطریقہ، عادت
عشق نظر آئےعاشق سامنے آئے

تشریح

شاعر حسن (محبوب) کی فطرت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حسن کی یہ عادت ہے کہ جب بھی اسے عشق (عاشق) اپنی طرف آتا دکھائی دیتا ہے، وہ شرما کر پردے میں چھپ جاتا ہے۔ محبوب عاشق کے سامنے آنے سے گریز کرتا ہے، جس سے عاشق کی تڑپ اور بڑھ جاتی ہے۔

شعر نمبر 4

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

مشکل الفاظ کے معنی

کاجل کا کرشمہآنکھوں میں کاجل لگانے کا جادو
چاند ساامید یا آنسو کی چمک

تشریح

یہ شعر محبوب کی آنکھوں کی تعریف بھی ہو سکتا ہے اور شاعر کی اپنی کیفیت بھی۔ محبوب اپنی آنکھوں میں کاجل لگا کر ماحول کو شام جیسا سحر انگیز بنا دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں چاند جیسی چمک ہوتی ہے۔ دوسرا پہلو: شاعر اپنی اداس آنکھوں میں یادوں کا کاجل اور آنسوؤں کا چاند چمکائے رکھتا ہے۔

شعر نمبر 5 (مقطع)

، عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی ، جس شہر میں بھی رہنا، اکتائے ہوئے رہنا

مشکل الفاظ کے معنی

اکتائے ہوئےبیزار، بور، اداس

تشریح

منیر نیازی اپنی ذات سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے منیر! تم نے تو اپنی یہ عادت ہی بنا لی ہے کہ تم جہاں بھی جاتے ہو، جس شہر میں بھی رہتے ہو، وہاں سے بیزار اور اکتائے ہوئے رہتے ہو۔ تمہیں کہیں سکون نہیں ملتا۔ یہ اداسی جگہ کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہارے اندر کی اداسی ہے۔