حمد
شاعر: حفیظ تائب
یہ حمد اللہ تعالیٰ کی ذات کی کبریائی، اس کے بنائے ہوئے نظام، جلال و جمال اور اس کے کرم کی وسعت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اللہ کی محبت اور وصل کی تڑپ کو اپنی شاعری کا مرکزی نقطہ بناتا ہے۔
کس کا نظام ، راہ نما ہے افق افق جس کا دوام ، گونج رہا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
اس شعر میں شاعر حفیظ تائب اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہتے ہیں کہ وہ کون سی ذات ہے جس کا بنایا ہوا نظام کائنات کے ہر کونے میں رہنمائی کر رہا ہے؟ یقیناً وہ اللہ کی ذات ہے۔ اسی کی ذات کو ہمیشگی حاصل ہے اور اس کی موجودگی کا احساس کائنات کی ہر وسعت میں گونج رہا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کا اپنے وقت پر آنا جانا اس بات کی گواہی ہے کہ اس کائنات کو چلانے والا ایک ہی رب ہے۔
شان جلال ، کس کی عیاں ہے جبل جبل ، رنگ جمال ، کس کا جما ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے بلند و بالا اور مضبوط پہاڑوں کو دیکھ کر کس کی طاقت اور جلال کا اندازہ ہوتا ہے؟ وہ اللہ ہی ہے جس نے ان پہاڑوں کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ دوسری طرف جب ہم افق کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں بکھرے ہوئے خوبصورت رنگ (سورج نکلتے اور غروب ہوتے وقت) اللہ کے حسن اور جمال کی عکاسی کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کا جلال پہاڑوں میں اور جمال کائنات کے رنگوں میں نظر آتا ہے۔
مکتوم کس کی موج کرم ہے صدف صدف مرقوم کس کا حرف وفا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر فرماتے ہیں کہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود ہر سیپی کے اندر موتی بنانے کی صلاحیت کس نے چھپا رکھی ہے؟ یہ اللہ کی چھپی ہوئی مہربانی (موج کرم) ہے۔ اسی طرح کائنات کے ہر کنارے پر اللہ کی وفا اور محبت کا پیغام لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ اپنی مخلوق کو رزق دیتا ہے چاہے وہ سمندر کی تہہ میں بند سیپی ہی کیوں نہ ہو۔
، کس کی طلب میں اہل محبت ہیں داغ داغ کس کی ادا سے حشر بپا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اللہ والے صوفیاء اور اولیاء کس کی محبت میں بے چین رہتے ہیں اور تکلیفیں اٹھاتے ہیں؟ وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ کائنات کے ذرے ذرے میں جو ہلچل اور ہنگامہ خیزی نظر آتی ہے، وہ سب اللہ ہی کے حکم اور اس کی قدرت کی ایک ادنی سی جھلک ہے۔
سوزاں ہے کس کی یاد میں تائب نفس نفس فرقت میں کس کی شعلہ نوا ہے افق افق
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
مقطع میں حفیظ تائب اپنا تخلص استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے تائب تمھاری ہر سانس کس کی یاد میں جل رہی ہے؟ تم کس کی جدائی میں اس قدر تڑپ رہے ہو کہ تمھاری فریاد کائنات کے کناروں تک پھیل گئی ہے؟ مراد یہ ہے کہ شاعر کا دل اللہ کی محبت اور اس سے ملاقات کے شوق میں بے چین ہے اور یہ بے چینی اس کی شاعری اور دعاؤں میں ظاہر ہو رہی ہے۔