کلام: رحمان بابا
شاعر: رحمان بابا (ترجمہ پروفیسر قیصر ندیم)
پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمان بابا کی یہ نظم اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے (توکل)، اس کی بے نیازی اور اس کے ساتھ تعلق کی گہرائی کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اللہ کو کائنات کا مطلق حکمران اور اپنا سچا دوست قرار دیتا ہے۔
دیکھ جس پر ہے آسرا میرا ہے وہ قادر الکل، خدا میرا ، حامی، جتنے ہیں بزرگی کے سب کا رہبر ہے رہنما میرا زیر احسان ہے نہ حاجت مند بے نیازی کا منتہا میرا جس نے پیدا کیا عدم سے وجود ہے وہ خلاق دوسرا میرا ہے وہی صانع صنعت کل ہے وہی ساتھ ہے جدا میرا ساری اقلیم شش جہات کے بیچ حکم ران كاتب قضا ميرا
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
اس نظم میں رحمان بابا اللہ پر اپنے مکمل بھروسے (توکل) کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا سہارا صرف اس اللہ پر ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ دنیا میں جتنے بھی بزرگ یا رہنما ہیں، ان سب کا رہنما بھی میرا اللہ ہی ہے۔ میرا اللہ نہ کسی کا احسان لیتا ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے، وہ بے نیاز ہے۔ اسی نے مجھے کچھ نہیں (عدم) سے پیدا کیا۔ وہی پوری کائنات کا بنانے والا (صانع) ہے۔ وہ میرے ساتھ بھی ہے (شہ رگ سے قریب) اور اپنی شان میں سب سے الگ (جدا) بھی ہے۔ پوری کائنات کی چھ سمتوں میں صرف اسی کا حکم چلتا ہے اور وہی میری تقدیر لکھنے والا ہے۔
اس کو پھر غیر کی نہیں حاجت ساتھ ہے جس کے آشنا میرا کیوں اسے در بدر تلاش کروں دل میں رہتا ہے دلربا میرا بے نیاز ہے، بے تبدل ہے اک وہی صاحب بقا میرا
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
رحمان بابا فرماتے ہیں کہ جس شخص کے ساتھ میرا دوست (اللہ) ہو، اسے پھر کسی غیر کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی۔ میں اسے دنیا میں ادھر ادھر کیوں تلاش کروں؟ وہ تو میرے دل کے اندر رہتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز بدلتی اور ختم ہوتی ہے، لیکن میرا رب وہ ہے جو کبھی نہیں بدلتا اور جسے کبھی فنا نہیں (وہ ہمیشہ رہنے والا ہے)۔