کھڑا ڈنر

شاعر: سید محمد جعفری

تعارف و مرکزی خیال

یہ طنزیہ و مزاحیہ نظم مغربی طرز کی دعوتوں (Buffet System) اور معاشرتی دکھاوے پر تنقید کرتی ہے۔ شاعر نے کھانے کے دوران لوگوں کی بے صبری، حرص اور بدانتظامی کا مضحکہ اڑایا ہے۔

بند نمبر 1

کھڑا ڈنر ہے غریب الدیار کھاتے ہیں بنے ہوئے شتر بے مہار کھاتے ہیں اور اپنی میز پہ ہو کر سوار کھاتے ہیں کچھ اس طرح سے کہ جیسے ادھار کھاتے ہیں شکم غریب کی یوں فرسٹ ایڈ ہوتی ہے ، ڈنر کے سائے میں فوجی پریڈ ہوتی ہے

مشکل الفاظ کے معنی

کھڑا ڈنربوفے سسٹم جہاں کھڑے ہو کر کھایا جاتا ہے (Buffet)
غریب الدیارپردیسی، یہاں مراد: بیچارے مہمان
شتر بے مہاروہ اونٹ جس کی نکیل نہ ہو (مراد: بے قابو، بے ترتیب)
شکمپیٹ
فرسٹ ایڈابتدائی طبی امداد

تشریح

شاعر شادی بیاہ یا تقریبات میں "بوفے سسٹم" (کھڑے ہو کر کھانے) کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اس طرح کها رہے ہیں جیسے پردیس میں کوئی بھوکا ہو۔ کوئی نظم و ضبط نہیں، لوگ بے مہار اونٹوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لوگ میزوں پر ایسے جھکتے ہیں جیسے ان پر سوار ہو رہے ہوں اور اتنی جلدی کھاتے ہیں جیسے ادھار کا کھانا ہو اور کوئی چھین لے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ پیٹ کو فرسٹ ایڈ دی جا رہی ہے اور یہ کھانا نہیں بلکہ کوئی فوجی پریڈ ہو رہی ہے جہاں بھاگ دوڑ لگی ہے۔

بند نمبر 2

کھڑے ہیں میز کنارے جو ایک پلیٹ لیے ادھر ادھر کے جو کھانے تھے سب سمیت لیے ، یہ میز ہو گئی خالی اب اور ثیث لیے ، پلاؤ کھا چکی اب زردہ اور سویت لیے تھی ایک مرغ کی ٹانگ اور رقیب لے بھاگا مرا نصیب بھی جاگا یہ دیر میں جاگا

مشکل الفاظ کے معنی

سمیت لیےجمع کر لیے
ٹیٹ (Tete)مراد: سمت یا ٹارگٹ (انگریزی لفظ)
رقیبدشمن (مراد: دوسرا مہمان جو کھانا لے گیا)
نصیب جاگاقسمت کھلی

تشریح

شاعر ایک منظر کشی کرتا ہے کہ ایک شخص پلیٹ لے کر کھڑا ہے اور اس نے آس پاس کے سارے کھانے اپنی پلیٹ میں جمع کر لیے ہیں۔ ایک میز خالی کی تو فوراً دوسری میز کا رخ کیا۔ پلاؤ کے بعد میٹھا اور زردہ بھی ٹھونس لیا۔ شاعر طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے مرغی کی ایک ٹانگ نظر آئی تھی لیکن میرا دشمن (دوسرا بھوکا مہمان) اسے لے اڑا۔ میری قسمت جاگی تو سہی لیکن دیر ہو چکی تھی، کھانا ختم ہو چکا تھا۔

بند نمبر 3

کباب اٹھایا تو اس میں لپٹ گیا دھاگا ، پتہ یہ کیا کہ نہ پیچھا ہے جس کا نے آگا ، یہ کیا خبر تھی میں آیا تھا جب ڈنر کھانے کہ سر سجائے ہوئے ہیں یہاں پہ افسانے

مشکل الفاظ کے معنی

نے پیچھا نے آگانہ شروع نہ آخر، بے سر و پا
افسانےکہانیاں (مراد: عجیب و غریب خراب کھانے)

تشریح

شاعر اپنی بدقسمتی کا حال سناتا ہے کہ جب اس نے کباب اٹھانے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ دھاگا لپٹ کر آ گیا یعنی کچا یا خراب بنا ہوا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ شاعر کہتا ہے مجھے کیا معلوم تھا کہ ڈنر کے نام پر یہاں عجیب و غریب داستانیں (خراب کھانے) میرے سر پڑ جائیں گی۔

بند نمبر 4

، یہ شخص دیکھنے میں جو بڑا نمازی ہے حقیقوں کا نہ کہنا زمانہ سازی ہے یہی اڑائے گا مرغی جو موٹی تازی ہے ڈنر کیا ہے یہ گھڑ دوڑ کی سی بازی ہے لگائی بھوک میں مہمیز جس نے پار ہوا ، نہیں تو میری طرح سے ڈنر میں خوار ہوا

مشکل الفاظ کے معنی

زمانہ سازیدنیا داری، دھوکا
گھڑ دوڑگھوڑوں کی ریس
مہمیزوہ ایڑی یا کانٹا جو گھوڑے کو تیز بھگانے کے لیے مارا جاتا ہے
خوار ہواذلیل ہوا، بھوکا رہا

تشریح

شاعر ایک بظاہر شریف اور نمازی شکل والے آدمی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی شرافت دھوکا ہے۔ یہ شخص سب سے پہلے موٹی تازی مرغی ہڑپ کر جائے گا۔ یہ ڈنر نہیں بلکہ گھوڑوں کی ریس ہے، جس نے اپنی بھوک کو "مہمیز" لگائی (یعنی تیزی دکھائی) وہ کامیاب ہو گیا اور کھانا لے اڑا، اور جو میری طرح شرافت سے کھڑا رہا، وہ ذلیل ہوا اور بھوکا رہ گیا۔

بند نمبر 5

وہ ایک میز خواتین گرد صف آرا لبوں سے ان کے رواں گفتگو کا فواره میں ایک گوشے میں سہما کھڑا ہوں بیچاره کہ یہ ہٹیں تو اٹھاؤں میں نان کا پاره امیر حلقہ خوباں جو مرغ و ماہی ہیں تو ہم شہید ستم ہائے کم نگاہی ہیں

مشکل الفاظ کے معنی

گرد صف آراارد گرد لائن بنا کر کھڑی ہوئیں
گوشے میںکونے میں
نان کا پارہروٹی کا ٹکڑا
امیر حلقہ خوباںحسینوں کے گروہ کا لیڈر
مرغ و ماہیمرغی اور مچھلی
ستم ہائے کم نگاہینظر انداز کیے جانے کا ظلم

تشریح

آخری بند میں شاعر خواتین کی میز کا نقشہ کھینچتا ہے۔ خواتین نے میز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور ان کی باتیں فوارے کی طرح جاری ہیں (یعنی مسلسل باتیں کر رہی ہیں اور کھانا نہیں چھوڑ رہ)۔ شاعر کہتا ہے میں ایک کونے میں ڈرا ہوا کھڑا ہوں کہ کب یہ خواتین ہٹیں اور میں روٹی کا ایک ٹکڑا حاصل کر سکوں۔ وہ حسین لوگ تو مرغی اور مچھلی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ہم جیسے لوگ ان کی بے توجہی کا شکار ہو کر بھوک سے شہید ہو رہے ہیں۔