ملی نغمہ
شاعر: احمد ندیم قاسمی
یہ ملی نغمہ پاکستان سے محبت، اس کی خوشحالی اور اس کی عظمت کی ایک خوبصورت دعا ہے۔ شاعر پاکستان کے لیے استحکام، امن، اور دائمی خوشحالی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے ، وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ میرے پیارے وطن پاکستان پر خوشحالی اور بہار کا ایسا موسم آئے جو کبھی ختم نہ ہو۔ یعنی پاکستان ہمیشہ ترقی کرتا رہے اور اس پر کبھی برا وقت یا زوال نہ آئے۔ یہ دعا پاکستان کے دائمی استحکام کے لیے ہے۔
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں ، یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر چاہتا ہے کہ پاکستان میں جو بھی خوشی (پھول) آئے وہ عارضی نہ ہو بلکہ برسوں تک قائم رہے۔ یہاں کے لوگ ہمیشہ خوش رہیں۔ خزاں (یعنی بدحالی، دہشت گردی یا دکھ) کو اتنی ہمت بھی نہ ہو کہ وہ اس ملک کی طرف رخ کر سکے۔
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
سبز رنگ پاکستان کے جھنڈے کا بھی رنگ ہے اور خوشحالی کی علامت بھی۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ پاکستان کے کھیت ہمیشہ بھرے بھرے رہیں، ہماری زراعت ترقی کرے اور ہماری خوشحالی پوری دنیا میں بے مثال ہو کہ کوئی دوسرا ملک اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں سے بھی روئیدگی محال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر اللہ کی رحمت (بارش) کا طلب گار ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اللہ ایسی رحمت کی بارش برسائے کہ پاکستان کا گوشہ گوشہ زرخیز ہو جائے۔ یہاں تک کہ جو بنجر زمینیں اور پتھر ہیں، ان میں سے بھی سبزہ اگ آئے (مراد یہ ہے کہ ناممکن حالات بھی ہمارے حق میں بہتر ہو جائیں اور رزق کی فراوانی ہو۔
، خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
شاعر دعا گو ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کی عزت اور وقار ہمیشہ قائم رہے، اسے کبھی فنا نہ ہو۔ اس ملک کی خوبصورتی اور اس کا نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور نہ ہو بلکہ مزید نکھرتا جائے، اسے زمانے کی گردشوں کا کوئی خوف نہ ہو۔
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
مشکل الفاظ کے معنی
تشریح
یہ شعر پاکستانی قوم کے لوگوں کے لیے ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری تعلیم، تہذیب اور ہنر میں کمال کے درجے پر ہو۔ ہم اخلاقی اور فنی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ معاشرے میں کوئی بھی شخص اداس، پریشان یا غریب نہ رہے۔ سب کو برابر کے حقوق اور خوشیاں میسر ہوں۔