ملی نغمہ

شاعر: احمد ندیم قاسمی

تعارف و مرکزی خیال

یہ ملی نغمہ پاکستان سے محبت، اس کی خوشحالی اور اس کی عظمت کی ایک خوبصورت دعا ہے۔ شاعر پاکستان کے لیے استحکام، امن، اور دائمی خوشحالی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔

شعر نمبر 1

خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے ، وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

ارض پاکپاکستان کی پاک زمین
فصل گلبہار کا موسم (مراد: خوشحالی کا دور)
اندیشہ زوالختم ہونے یا تباہ ہونے کا ڈر

تشریح

شاعر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ میرے پیارے وطن پاکستان پر خوشحالی اور بہار کا ایسا موسم آئے جو کبھی ختم نہ ہو۔ یعنی پاکستان ہمیشہ ترقی کرتا رہے اور اس پر کبھی برا وقت یا زوال نہ آئے۔ یہ دعا پاکستان کے دائمی استحکام کے لیے ہے۔

شعر نمبر 2

یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں ، یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

مجالہمت، طاقت
خزاںپت جھڑ (مراد: مصیبت، دکھ، بدحالی)

تشریح

شاعر چاہتا ہے کہ پاکستان میں جو بھی خوشی (پھول) آئے وہ عارضی نہ ہو بلکہ برسوں تک قائم رہے۔ یہاں کے لوگ ہمیشہ خوش رہیں۔ خزاں (یعنی بدحالی، دہشت گردی یا دکھ) کو اتنی ہمت بھی نہ ہو کہ وہ اس ملک کی طرف رخ کر سکے۔

شعر نمبر 3

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

سبزہہریالی (مراد: زرخیزی اور خوشحالی)
مثال نہ ہوبے مثال ہو، لاجواب ہو

تشریح

سبز رنگ پاکستان کے جھنڈے کا بھی رنگ ہے اور خوشحالی کی علامت بھی۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ پاکستان کے کھیت ہمیشہ بھرے بھرے رہیں، ہماری زراعت ترقی کرے اور ہماری خوشحالی پوری دنیا میں بے مثال ہو کہ کوئی دوسرا ملک اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔

شعر نمبر 4

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں سے بھی روئیدگی محال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

گھنی گھٹائیںگہرے بادل
روئیدگیاگنا، پودوں کا نکلنا
محالناممکن

تشریح

شاعر اللہ کی رحمت (بارش) کا طلب گار ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اللہ ایسی رحمت کی بارش برسائے کہ پاکستان کا گوشہ گوشہ زرخیز ہو جائے۔ یہاں تک کہ جو بنجر زمینیں اور پتھر ہیں، ان میں سے بھی سبزہ اگ آئے (مراد یہ ہے کہ ناممکن حالات بھی ہمارے حق میں بہتر ہو جائیں اور رزق کی فراوانی ہو۔

شعر نمبر 5

، خدا کرے کہ وقار اس کا غیر فانی ہو اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

وقارعزت، مرتبہ
غیر فانیکبھی ختم نہ ہونے والا
تشویش ماہ و سالزمانے کے گزرنے کی فکر (بوڑھا ہونے یا کمزور ہونے کا ڈر)

تشریح

شاعر دعا گو ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کی عزت اور وقار ہمیشہ قائم رہے، اسے کبھی فنا نہ ہو۔ اس ملک کی خوبصورتی اور اس کا نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور نہ ہو بلکہ مزید نکھرتا جائے، اسے زمانے کی گردشوں کا کوئی خوف نہ ہو۔

شعر نمبر 6

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

مشکل الفاظ کے معنی

اوج کمالبلندی کی انتہا
ملولاداس، غمگین
خستہ حالبرے حال میں، غریب

تشریح

یہ شعر پاکستانی قوم کے لوگوں کے لیے ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری تعلیم، تہذیب اور ہنر میں کمال کے درجے پر ہو۔ ہم اخلاقی اور فنی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ معاشرے میں کوئی بھی شخص اداس، پریشان یا غریب نہ رہے۔ سب کو برابر کے حقوق اور خوشیاں میسر ہوں۔