نعت

شاعر: سید نفیس شاہ

تعارف و مرکزی خیال

یہ نعت حضرت محمد ﷺ کی بے مثال ہستی، صفات اور معراج کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ شاعر رسول اللہ ﷺ کو تمام زمانوں اور جہانوں کے لیے سب سے حسین اور بے مثال قرار دیتا ہے۔

بند نمبر 1

اے رسول امین، خاتم المرسلین، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں ہے عقیدہ یہ اپنا با صدق و یقین، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

رسول امینامانت دار رسول
خاتم المرسلینرسولوں کا سلسلہ ختم کرنے والے، آخری نبی
با صدق و یقینسچائی اور پکے یقین کے ساتھ

تشریح

شاعر حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اے امانت دار رسول اور اے وہ ہستی جس پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا، پوری کائنات میں آپ جیسا کوئی نہیں ہے۔ یہ ہمارا پختہ ایمان اور سچا عقیدہ ہے کہ اللہ نے آپ کو بے مثال بنایا ہے۔ آپ کے اخلاق اور مرتبے کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

بند نمبر 2

دست قدرت نے ایسا بنایا تجھے ، جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے اے ازل کے حسیں، اے ابد کے حسیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

دست قدرتاللہ کا ہاتھ (مراد: اللہ کی طاقت)
جملہ اوصافتمام خوبیاں
ازلوہ وقت جس کی کوئی شروعات نہ ہو (ہمیشہ سے)
ابدوہ وقت جس کی کوئی انتہا نہ ہو (ہمیشہ تک)

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قدرت والے ہاتھوں سے آپ کی تخلیق فرمائی اور تمام ظاہری و باطنی خوبیاں آپ کی ذات میں جمع کر دیں۔ آپ دنیا کے آغاز سے لے کر آخرت تک ہر زمانے کے لیے سب سے حسین اور خوبصورت ہیں۔ حسن یوسف مشہور ہے لیکن آپ کا حسنِ اخلاق اور حسن صورت دونوں بے مثال ہیں۔

بند نمبر 3

بزم کونین پہلے سجائی گئی پھر تیری ذات منظر پہ لائی گئی سيد الأولين، سيد الآخرين، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

بزم کونیندونوں جہانوں کی محفل (دنیا اور آخرت)
منظر پہ لاناظاہر کرنا
سید الأولیناگلوں کے سردار
سید الآخرینپچھلوں کے سردار

تشریح

شاعر تخلیق کائنات کا سبب بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ نے یہ زمین و آسمان اور دونوں جہاں آپ ہی کی خاطر سجائے۔ اگرچہ آپ دنیا میں سب نبیوں کے بعد تشریف لائے، لیکن حقیقت میں آپ تمام اگلے اور پچھلے انسانوں اور نبیوں کے سردار ہیں۔ کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی آپ کا ظہور تھا۔

بند نمبر 4

تیرا سکہ رواں کل جہاں میں ہوا، اس زمیں میں ہوا آسماں میں ہوا کیا عرب کیا عجم سب ہیں زیر نگیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

سکہ رواں ہوناحکم چلنا، شہرت ہونا
عجمعرب کے علاوہ دیگر ممالک (غیر عرب)
زیر نگیںماتحت، تابع، حکومت کے نیچے

تشریح

حضور ﷺ کی نبوت اور بادشاہت صرف عرب تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اور آسمانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کا دین اور آپ کا نام ہر جگہ بلند ہے۔ چاہے عرب کے لوگ ہوں یا غیر عرب (عجم)، سب آپ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور آپ کے احکامات کے تابع ہیں۔

بند نمبر 5

، تیرے انداز میں وسعتیں فرش کی تیری پرواز میں رفعتیں عرش کی تیرے انفاس میں خلد کی یاسمیں، تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

وسعتیںپھیلاؤ
رفعتیںبلندیاں
انفاس"نفس" کی جمع، سانسیں
خلدجنت
یاسمیںچنبیلی کا پھول، خوشبو

تشریح

آپ کی زندگی میں زمین والوں کے لیے عاجزی اور وسعت ہے یعنی آپ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، لیکن آپ کا مقام اتنا بلند ہے کہ آپ نے معراج کی رات عرش الہی تک پرواز کیا۔ آپ کی مبارک سانسوں میں جنت کے پھولوں جیسی خوشبو ہے۔ آپ زمین اور آسمان دونوں کے لیے باعث رحمت ہیں۔

بند نمبر 6

سدرة المنتهى ره گزر میں تری قاب قوسین گرد سفر میں تری تو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں تجھ سا کوئی نہیں، تجھ سا کوئی نہیں

مشکل الفاظ کے معنی

سدرة المنتهىساتویں آسمان پر بیری کا درخت جہاں فرشتے (جبرائیل) رک جاتے ہیں
رہ گزرراستہ
قاب قوسیندو کمانوں کا فاصلہ (مراد: بہت زیادہ قربت جو اللہ اور نبی کے درمیان معراج میں ہوئی)
گرد سفرسفر کی دھول (مراد: راستے کی منزلیں)
قریںقریب

تشریح

واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ جیسا مقام جہاں جبرائیل بھی رک گئے آپ کے راستے کی ایک منزل تھی۔ آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور اللہ کے اتنے قریب ہوئے جیسے دو کمانیں آپس میں مل جاتی ہیں (قاب قوسین)۔ آپ اللہ (حق) کے قریب ہیں اور اللہ آپ کے قریب ہے۔ اس قربت میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔